پاکستانز ڈاٹ کام
Archives
میں اب تک قربتوں کی آرزو میں
تجھ کو پانے کی آرزو کرنا
عمرِ دراز مانگ کر لاے تھے چار دن
ہمیشہ مُسکرا کے آنسو کو چھپایا
کچھ ایسے لوگ جو زہن سے بھولاے نہیں جاتے
تنہا تنہا جیون میں کیسے دن گزاریں
اُس کی ہتھیلی پر میرے آنسو
اُس نے چھوکر مجھے پتھر سے انسان کرر دیا
ہمارے آنسو ہماری ہتھیلیوں پر
دوستوں دعا کرنا وہ گھڑی نہ آجاے
بہت مُدت کے ملے لیکن ملے کچھ اس طرح
بے شک انکھوں سے نکل آے تھے آنسو
انسو میں نہ ڈھونڈنا ہمیں
کچھ اجنبی سے لوگ تھے کچھ اجنبی سے ہم
اس کو احساس دلوایا ہے تو ملتا ہی نہیں
وہ اجنبی تھا غیر تھا کسی نے کہا نہیں تھا
یہ زندگی کبھی کبھی اجنی سی لگتی ہے
یونی چلتے ہوے راستوں میںکی ہم سفر جو ملے
کبھی زندگی میں اگ تو اکیلا ہو
چہرہ چہرہ ہے اب جہاں اجنی نہ آشنا
Pages:
1
2
3
4
« Previous Entries
Next Entries »
Latest Recipes
بکرا پوچھتا ہے، بول بکرا کون؟
تجھے کیا خبر دسمبر کی سرد راتوں میں
سنو! دسمبر اُسے پُکارو
سنو! دسمبر کی ٹھٹھرتی ہوءی شامیں
مُجھے تم یاد آتے ہو
میں دسمبر کی سرد راتوں کے وعدے یاد کرکے
اس سال دسمبر نے بے حد رُلا دہا
اس بار بھی کسی سے دسمبر نہیں رُکا
دسمبر تو ہر سال آتے رہیں گے
دسمبر مجھے راس آتا نہیں
Recent Comments
nIdA
: WOW!!
nIdA
: Beautiful Song… Great!!!
nIdA
: It Happens Really !!!
nIdA
: v.v.v.True… Beautiful!!
nIdA
: GoOOD
nIdA
: Very Beautifull. Awesome!!!
Lashakir
: bohat khoooooooob,,,finetastic
Categories
Funny Poetry
Poetry By Topic
Aina
Aitbaar
Ajnabi
Ansoo
Arzoo
December
Elesewhere
Your browser does not support inline frames or is currently configured not to display inline frames.
Feeds
RDF/RSS 1.0
RSS 0.92
RSS 2.0
Atom
Comments [RSS 2.0]
Meta
Register
Log in