<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<!-- generator="wordpress/2.1" -->
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	>

<channel>
	<title>پاکستانز ڈاٹ کام</title>
	<link>http://www.pakistans.com/urdu</link>
	<description>پاکستانز ڈاٹ کام کی اردو سروس پر خوشامدید</description>
	<pubDate>Wed, 26 Mar 2008 16:20:36 +0000</pubDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.1</generator>
	<language>en</language>
			<item>
		<title>وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور آپ کی راءے</title>
		<link>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/wazeer-e-azam-yusaf-raza-gilano-or-app-ki-ray/</link>
		<comments>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/wazeer-e-azam-yusaf-raza-gilano-or-app-ki-ray/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 26 Mar 2008 16:20:36 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[حکومت]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/wazeer-e-azam-yusaf-raza-gilano-or-app-ki-ray/</guid>
		<description><![CDATA[
]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/wazeer-e-azam-yusaf-raza-gilano-or-app-ki-ray/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>کیابش اورکونڈالیزارائس پرعذاب پہلے نازل ہوگا؟</title>
		<link>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/world/kia-bush-our-kolinda-per-azaab-phelay-nazil-hoga/</link>
		<comments>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/world/kia-bush-our-kolinda-per-azaab-phelay-nazil-hoga/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 18 Mar 2008 20:22:39 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[دنيا]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/world/kia-bush-our-kolinda-per-azaab-phelay-nazil-hoga/</guid>
		<description><![CDATA[جہازخوفناک آواز کے ساتھ گزرا اوراڑھائی سالہ زینب ڈر کے مارے میرے ساتھ چمٹ گئی۔ میرے جسم کوصاف معلوم ہورہاتھا کہ اس کاننھا سادل زور زور سے دھڑک رہاہے۔ جب اس کے اوسان بحال ہوئے تو اس نے نیاکھیل ایجاد کیا۔مجھ سے پوچھا کہ جب جہاز شورکرے تو کیاآپ ڈرتے ہیں  میں  نے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جہازخوفناک آواز کے ساتھ گزرا اوراڑھائی سالہ زینب ڈر کے مارے میرے ساتھ چمٹ گئی۔ میرے جسم کوصاف معلوم ہورہاتھا کہ اس کاننھا سادل زور زور سے دھڑک رہاہے۔ جب اس کے اوسان بحال ہوئے تو اس نے نیاکھیل ایجاد کیا۔مجھ سے پوچھا کہ جب جہاز شورکرے تو کیاآپ ڈرتے ہیں  میں  نے ہاں  میں جواب دیا اس پروہ جہاز کی آواز نکالتی اورمجھے اپنے ساتھ چمٹالیتی۔<br />
ایک زمانہ تھا کہ انسان عناصر کی بے رحمی سے ڈرتا تھا ۔بے کنارسمندر،قافلے ہڑپ کرنے والے ریگستان، قاتل برف سے ڈھکے ہوئے پہاڑ، زلزلے،آندھیاں ، طوفان، بارشیں اورسیلاب ۔<br />
اس وقت بھی بھی انسان نے انسانوں  کوڈرانے کیلئے بہت کچھ کیا تیمورجب ترکی اوربعد میں ماسکو کی طرف  فوج کش ہوا تو ہرسپاہی کے پاس دوگھوڑے تھے۔ لاکھوں  مربع میل زمین کسی ٹڈی دل کے حملے کے بغیر ہی بنجرہوگئی۔ اورنگ زیب اورشاہ جہان شکار کیلئے نکلتے تو ایک لاکھ افراد ہمراہ ہوتے اورشاہی مستقر میں  ہرسپاہی اپناکھانا الگ پکاتاتو آسمان تک دھواں  ہی دھواں  ہوتا۔ اس وقت بھی بچے ڈرتے ہوں گے۔ اورگھوڑوں  کی ٹاپوں  اوربادشاہ کے نقیبوں  کے آوازے سن کربڑوں  کے ساتھ چمٹ جاتے ہوں گے لیکن اس وقت ایک آرام تھا ۔جوگاؤں  اورشہراورقریے ان لشکروں  کے راستے میں  نہیں پڑتے تھے،وہاں  کے باشندے بچ جاتے تھے۔ وہاں بچے خوفزدہ نہیں ہوتے تھے۔ گرج چمک عناصر کی توہوتی تھی انسان اس پرقادر نہیں تھا کہ گرج چمک پیدا کرے اوراپنے ہی جیسے انسانوں  کوڈرائے۔<br />
لیکن یہ سب ماضی کاقصہ ہے۔ اب انسان نے وہ سب کچھ مہیاکرلیاہے جواس کے بچوں  کوخوفزدہ کرے اوران کے دل اتنے زور سے دھڑکیں کہ آواز ننھے ننھے جسموں  سے باہر آجائے۔ میں جب تصور کرتاہوں  کہ ہیروشیما اور ناگاساکی پرایٹم بم گرتے وقت بچوں  کے دل کس قدر زورسے دھڑکے ہوں گے،وہ کس طرح اپنی ماؤں اورباپوں  کے ساتھ چمٹے ہوں گے تو میں  کانپ اٹھتاہوں  اورمیرے جسم کابال بال چیخنے لگتاہے وہ بچے کس طرح پگھل گئے ہوں گے۔پگھلتے وقت ان کی جان کس طرح نکلی ہوگی۔ جوبچ گئے ،کس حال میں زندہ رہے ہوں گے اورپھرکئی دہائیوں  تک جوپیداہوتے رہے، کس طرح اپاہج، گونگے بہرے آدھے اورایک چوتھائی پیدا ہوتے رہے۔<br />
میں سوچتاہوں  ،عراق میں کارپٹ بمباری ہوئی تو بچوں  کے دن رات  کیسے گزرے ہوں گے، کارپٹ بمباری،یعنی بم اس حساب سے برسانا کہ زمین کاکوئی حصہ بچ نہ سکے،رات دن،چوبیس گھنٹے ،ہفتوں اورمہینوں  تک یہی سلسلہ رہا۔وہ بچے جومرتے وقت اپنے بڑوں  کے سینوں  سے چمٹے تھے،وہ تو مر ہی گئے ،لیکن وہ بچے جن پربم گرے اوران کی مائیں اورباپ دوسرے کمروں میں تھے،نیچے یااوپر والی منزل پرتھے،غسل خانوں  میں تھے ہاں وہ بچے مرتے  وقت جلتے وقت،آگ کی تپش سے جھلستے اورپگھلتے وقت ، لوہے کے ٹکڑے سروں  چہروں  ، سینوں ،ننھی  ننھی  ٹانگوں  ، بازوؤں  ،چھوٹے چھوٹے ہاتھوں   اور پیروں  سے پار ہوتے وقت ، کیاسوچتے ہوں گے؟ وزیرستان کے گاؤں   کے گاؤں  میزائلوں  کی زد  میں آکر جب ختم ہوتے ہوں گے تو بچوں  پرکیاگزرتی ہوگی اور کیاپتہ انہیں چیخنے کاوقت بھی ملتاہوگا یانہیں ۔<br />
اوریہ سب کچھ اس ملک نے اوراس قوم نے کیا اور کررہی ہے جوسب سے زیادہ مہذب ہے جہاں لومڑیوں  کی کھال سے بنے ہوئے فَر کوٹ نہیں  پہنے جاتے کہ لومڑیوں  کوقتل کرناظلم ہے،جہاں  جانوروں  کی حفاظت کیلئے محکموں  کے محکمے سرگرم عمل ہیں ،جہاں  حیوانات کے حقوق انسانی حقوق کے برابر ہیں  اورجہاں  حیوانات کے ڈاکٹر انسانوں  کاعلاج کرنے والے ڈاکٹروں  سے زیادہ مہنگے ہیں ۔جہاں  بچے اس قدر قیمتی سمجھے جاتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال اس طرح کی جاتی ہے کہ تیسری دنیا کے بچے اورماں باپ اس کا خواب میں بھی تصور نہیں کرسکتے۔ پورے کرہ ارض کے انسان اوروسائل امریکی بچوں  کیلئے دست بستہ ہیں اور حاضر ہیں ۔ بنگلور ،مدراس ،کراچی اورسنگاپور کے استاد انٹرنیٹ پر امریکی بچوں  کوپڑھا رہے ہیں اور ان ملکوں  میں کام کرنے والی کمپنیاں  اس وقت کھلتی ہیں جب امریکی بچے جاگتے ہیں اوراس وقت چھٹی کرتی ہیں  جب امریکی بچے سوتے ہیں ،خواہ ان ملکوں  میں اس وقت آدھی رات ہویا آدھا دن ہو۔<br />
تعجب ہے کہ خیرات میں  کروڑوں ڈالر دینے والے بل گیٹس نے ایک بار بھی احتجاج نہیں  کیا کہ عراق افغانستان اوروزیرستان میں معصوم بچے کیوں  مارے جارہے ہیں  اورقندھار اورخوست اورجلال آباد اوربصرہ اوربغداد میں شادیوں  کی تقاریب پرکیوں  بمباری کی جارہی ہے؟<br />
لیکن بل گیٹس اوررمز فیلڈ اورکونڈو لیزا رائس سے کیاگلہ، کیاعراق افغانستان اوروزیرستان میں  بموں  اورمیزائلوں  کی آگ میں پگھلتے بچوں  کیلئے ریاض دوحہ ابوظہبی اسلام آباد اورانقرہ نے احتجاج کیا؟ کیارباط قاہرہ عمان تہران اورجکارتہ سے کوئی آواز بلندہوئی؟<br />
نہیں ،کوئی آواز نہیں ! ہرطرف موت کاسناٹا ہے، اس سناٹے میں صرف بموں اورمیزائلوں  کی آواز سنائی دیتی ہے اورپھر ننھے بچوں  کے دلوں   کے زور زور سے دھڑکنے کی آواز آتی ہے۔<br />
بل گیٹس ،بش، رمز فیلڈ اورکونڈا لیزارائس کے ساتھ توجوہوگا وہ ہوگا ،میراایمان ہے کہ ریاض عمان اسلام آباد، جکارتہ اورابوظہبی کے محلات میں رہنے والوں پراس سے پہلے عذاب نازل ہوگا۔آپ بھی انتظار کریں  ۔میں  بھی منتظرہوں ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/world/kia-bush-our-kolinda-per-azaab-phelay-nazil-hoga/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>امریکہ پاکستان کی خودمختاری سے نہ کھیلے</title>
		<link>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/world/america-pakistan-ki-khud-mukhtari-say-na-khelay/</link>
		<comments>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/world/america-pakistan-ki-khud-mukhtari-say-na-khelay/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 18 Mar 2008 20:21:30 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[دنيا]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/world/america-pakistan-ki-khud-mukhtari-say-na-khelay/</guid>
		<description><![CDATA[ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے پاکستان سے گیارہ مطالبات کیے ہیں  جن میں حکومت پاکستان سے اپنے فوجیوں  کیلئے ایسی رعائتیں  مانگی ہیں  جوایک آزاد اور خودمختار ملک کیلئے انتہائی ذلت آمیز ہیں ۔ان مطالبات کے مطابق پاکستان آنے والے امریکی فوجیوں  کوویزے کی ضرورت نہ ہوگی وہ پاکستان [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے پاکستان سے گیارہ مطالبات کیے ہیں  جن میں حکومت پاکستان سے اپنے فوجیوں  کیلئے ایسی رعائتیں  مانگی ہیں  جوایک آزاد اور خودمختار ملک کیلئے انتہائی ذلت آمیز ہیں ۔ان مطالبات کے مطابق پاکستان آنے والے امریکی فوجیوں  کوویزے کی ضرورت نہ ہوگی وہ پاکستان میں اپنی وردی پہن کراوربلالائسنس اسلحہ لے کرچل پھرسکیں گے۔ امریکی فوجی کوئی ٹیکس ادا نہیں کریں گے وہ اپنی مرضی سے اشیاء درآمد اوربرآمدکرسکیں گے اورانہیں کوئی چیک نہیں کرسکے گا امریکی فوجیوں  کے ہوائی اوربحری جہاز کوئی فیس اداکیے بغیر پاکستان آسکیں گے۔امریکی ٹھیکیدار کوبھی ٹیکس کی معافی ہوگی۔امریکی فوجیوں  کے ہاتھوں  کوئی پاکستانی فوجی یاسویلین مرجائے یاجائیداد تباہ ہوجائے توکوئی معاوضہ نہیں دیاجائے گا۔<br />
یہ ایسی شرائط اورمطالبات ہیں جوپاکستان کے شہریوں  کوبھی حاصل نہیں ہیں  اس نوعیت  کے مطالبات  کوئی آقااپنے غلام سے ہی کرسکتاہے سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان امریکہ کی مفتوحہ کالونی ہے امریکہ کی وحشیانہ پالیسیوں  کی بناء پر ہی پاکستان کے اندر دہشت گردی ہورہی ہے امریکی فوجی اس دہشت گردی کوکیسے کنٹرول کرسکتے ہیں امریکن فوجیوں  کے پاکستان میں آزادانہ گھومنے سے دہشت گردی میں مزید اضافہ ہوگا۔ پاکستان کے عوام امریکہ کے سخت مخالف ہیں لہٰذا ایک ایسے معاشرے میں جہاں  امریکہ مخالف جذبات عروج پرہوں  وہاں  پرامریکی افواج مثبت کردار کیسے ادا کرسکتی ہیں امریکہ عراق اورافغانستان میں ناکام ہوچکاہے وہ پاکستان میں  کیسے کامیاب ہوسکتاہے امریکہ اگر پاکستان اوردنیا میں پائیدار امن چاہتاہے تواسے پاکستان،افغانستان اورعراق سے نکل جاناچاہیے۔<br />
قاضی حسین احمد نے درست کہاہے کہ امریکہ کے گیارہ مطالبات حکومت کے منہ پرطمانچہ ہیں ۔کاش جنرل پرویزمشرف ایک ٹیلی فون کال پرامریکہ کے سات مطالبات تسلیم نہ کرتے تو آج امریکہ کوگیارہ ذلت آمیز مطالبات پیش کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔جنرل پرویزمشرف کی خواہش ہے کہ قوم ان کواچھے نام سے یاد رکھے۔ انہوں  نے اپنے آٹھ سالہ طویل دور میں قوم کولوڈشیڈنگ اورخودکش حملوں  کاتحفہ دیاہے۔  ان کی حکومت میں عوام کی محبوب لیڈر محترمہ بینظیر بھٹو شہید ہوگئیں  پاکستان کے عوام نے انتخابات میں جنرل پرویزمشرف  اوران کے اتحادیوں  کومسترد کردیا ہے انہوں  نے پاکستان کوامریکہ کے ہاتھوں  گردی رکھ دیا ہے ان کے دور میں پاکستان کی آزادی اورخودمختاری پرکھلے بندوں  اوربراہ رست  حملے کیے گئے۔ محترمہ بینظیر بھٹو اورمیاں  نوازشریف نے جنرل مشرف کو ایک مضبوط،مستحکم پاکستان دیاتھا جس کے دفاع کیلئے ایٹم بم اور ایٹمی میزائل موجودتھے جنرل پرویزمشرف  نے انسانی تاریخ میں  پہلی بارایک ایٹمی پاکستان کواس قدر نیچے گرادیا کہ عالمی طاقتیں  اسے ذلت آمیز شرائط پیش کرنے کی جرأت کررہی ہیں ۔ کاش ہم نے علامہ اقبال اورقائداعظم کی تعلیمات اورفکروفلسفہ پر عمل کیاہوتا تو آج پاکستان دنیا کاایک معزز اوراہم ملک بن چکاہوتا علامہ اقبال نے کہاتھا۔<br />
من کی دنیا ہاتھ آتی ہے توپھرجاتی نہیں<br />
تن کی دنیاچھاؤں  ہے آتا ہے دھن جاتاہے دھن<br />
پانی پانی کرگئی مجھ کوقلندر کی یہ بات<br />
توجھکاجب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن<br />
پاکستانی قوم آج  بھی اگر پورے قد کے ساتھ کھڑا ہوناسیکھ لے تو اس کی تقدیر بدل سکتی ہے پاکستان کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے۔ وسائل کی لوٹ مار اگر ختم ہوجائے اورانصاف کی عملداری شروع ہوجائے تو ہم تمام چیلنجوں  کا مقابلہ کرسکتے ہیں ۔ بھٹو شہید نے اپنی آخری کتاب&#8221;اگر مجھے قتل کیاگیا&#8221; میں درست کہا تھا کہ جب پاکستانی قوم فوجی آمریت کوقبول کرنے کیلئے تیارہوجاتی ہے توپھرعالمی طاقتیں  اپنی طاقت کے بل بوتے پرفوجی آمریت کے پل سے گزر کر ہمارے ملک میں داخل ہوجاتی ہیں  اورملک کی تباہی کاباعث بنتی ہیں  لہٰذا اگر ہم بیرونی بالادستی کوروکنا چاہتے ہیں تو ہمیں  اپنے ملک کے اندر فوجی بالادستی کوروکنا ہوگا۔<br />
پاکستان کے اندر اگر عدلیہ کی آزادی، آئین کی بالادستی اورپارلیمنٹ کی خودمختاری  کانظام نہیں ہوگا اورفرد واحد کوآئین سے کھیلنے  کی  اجازت ہوگی توپھرامریکہ ہمیں ڈکٹیٹ کرنے اورتوہین آمیز مطالبات پیش کرنے کی پالیسی پرعمل کرتارہے گا۔ نائن الیون کے بعد ترکی کی فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کااتحادی بننے کی خواہش ظاہر کی تھی مگر ترکی کی پارلیمنٹ نے اتحادی بننے سے انکارکردیا تھا پاکستان میں چونکہ فوجی آمریت تھی اورپارلیمنٹ موجود نہ تھی لہٰذا فوجی آمر نے قومی مفادات کاتحفظ کیے بغیر امریکہ کابلامشروط اتحادی بنناقبول کرلیا۔ خداکاشکر ہے کہ18فروری کے انتخابات کے بعد ایک ایسی پارلیمنٹ  وجود میں آگئی ہے جوپاکستان کی آزادی اور خودمختاری کادفاع کرسکتی ہے اے این پی کے سربراہ اسفندیارولی کے الفاظ میں  اگر اراکین اسمبلی &#8220;بے غیرتی&#8221; کامظاہرہ نہ کریں تو  پارلیمنٹ پاکستان کوبحران سے باہر نکال سکتی ہے۔<br />
امریکہ کافوجی آپشن ناکام ہوچکاہے۔امریکن تھنک ٹینک صدربش کو مشورے دے رہے ہیں  کوجمہوریت،سیاست اورڈپلومیسی کے ساتھ دہشت گردی کوختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ طاقت کے استعمال سے یہ نازک اور سنگین مسئلہ مزیدپیچیدہ ہوتا جارہاہے۔اسلام آباد  کی سپرمارکیٹ میں امریکی ایف بی آئی  کے اہلکاروں  کونشانہ بنایا گیا ہے پاکستان کی فوج بھی دہشت گردوں  کانشانہ بن چکی ہے۔ لاہور میں  ایف آئی اے کی بلڈنگ  پرالمناک خودکش حملہ صدر بش اورصدر مشرف کودعوت  فکردے رہاہے کہ وہ اورافہام وتفہیم کے ساتھ دہشت گردی کامسئلہ حل کرسکے۔ طاقت کااستعمال پہلے بھی ناکام ہوا آئندہ بھی ہوگا۔جمہوریت اور سیاست ہی اس مسئلے کاواحد علاج ہے۔<br />
خودی نہ بیچ غریبی میں  نام پیدا کر</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/world/america-pakistan-ki-khud-mukhtari-say-na-khelay/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>ایک وعدے کی یاددہانی</title>
		<link>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/aik-waday-ki-yaad-dihani/</link>
		<comments>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/aik-waday-ki-yaad-dihani/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 18 Mar 2008 20:19:44 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[حکومت]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/aik-waday-ki-yaad-dihani/</guid>
		<description><![CDATA[میرے ایک قاری جو اسفندیار ولی خان کے ووٹر ہیں  ، نے ایک خط ارسال کیا ہے ، جس میں  انہوں  نے نہ صرف اے این پی کو ووٹ دینے کی وجہ بیان کی ہے بلکہ بڑی خوبصورتی کے ساتھ حکمران بننے والے اس جماعت کے رہنماؤں  کو ان کا فرض [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>میرے ایک قاری جو اسفندیار ولی خان کے ووٹر ہیں  ، نے ایک خط ارسال کیا ہے ، جس میں  انہوں  نے نہ صرف اے این پی کو ووٹ دینے کی وجہ بیان کی ہے بلکہ بڑی خوبصورتی کے ساتھ حکمران بننے والے اس جماعت کے رہنماؤں  کو ان کا فرض بھی یاد دلایا ہے ۔ چارسدہ کے الیاس خان لکھتے ہیں   ۔<br />
&#8221; میں  پیشے کے لحاظ سے سرحدوں  کا محافظ (سپاہی فرنٹئرکور) ہوں اور میری عمر تقریباً 36 سال ہے ۔ اس 36 سالہ زندگی میں  ، میں  نے کبھی ووٹ نہیں  ڈالا۔ میں  سمجھتا تھا کہ انتخابات نظام نہیں  بلکہ چہرے بدلنے کا نام ہے ۔انتخابات کے بعد بھی  یہی ظلم ، ناانصافی، کرپشن ، قتل وغارت وغیرہ پہلے کی طرح جاری وساری رہیں  گی۔ میں  سمجھتا تھا کہ منتخب ہونے کے بعد یہ لوگ عوام کی فکر کرنے کی بجائے اپنی جیبوں  کو بھرتے ہیں  ۔ یوں  میں  نے ہر انتخاب میں  ووٹ ڈالنے سے گریز کیاتاہم اس مرتبہ میں  نے زندگی میں پہلی مرتبہ ووٹ استعمال کیا اور اب آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں  کہ میں  نے ووٹ کیوں  اور کس کو دیا؟۔<br />
سلیم بھائی : جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ ہمارا ملک گذشتہ کچھ برسوں  سے بدترین دہشت گردی کی زد میں  ہے اور بدقسمتی سے اس میں  ہمارے معصوم عوام کے علاوہ خصوصی طور پر ہمارے بیلٹ والے (آرمی ، فرنٹئیر کور، ایف سی اور پولیس وغیرہ) ٹارگٹ بن رہے ہیں  ۔ میں  یہاں  اس بحث میں  نہیں پڑنا چاہتا کہ ہماری نوکری کتنی مشکل ہے ۔ ہمیں  کبھی افغانستان کے پہاڑی سلسلوں  میں  تو کبھی سیاچن کی برف پوش پہاڑوں ، جو کہ موت کے لئے منہ کھولے کھڑے ہیں  ، میں  ڈیوٹی دینی پڑتی ہے ۔ ہم یہ سب کچھ پاکستان کی دفاع کے لئے کرتے ہیں  اور اگر سچ بتاؤں  تو اپنے بوڑھے والدین، بچوں  اور بہن بھائیوں  کے لئے دو وقت کی روٹی مشکل سے پیدا کرتے ہیں لیکن افسوس کہ ہمارے ہی بھائی ہمیں  ٹارگٹ کررہے ہیں  ۔ ان لوگوں  کو یہ بھی احساس نہیں  کہ ہم تو خود ان کے دفاع کے لئے کوشاں  رہتے ہیں  ۔ یہ ایک الگ افسوسناک داستان ہے کہ میں  نے اس دوران اپنے بھائیوں  کی کتنی مسخ شدہ لاشیں  (فرنٹیئر کور کے ملازمین کی لاشیں )اٹھائی ہیں  اور پھر جب یہ لاشیں  گھروں  کو پہنچ جاتی ہیں  تو ان کے والدین پر کیا کیا قیامتیں  گزرتی ہیں  ۔ بہرحال میں  اصل موضوع کی طرف آتا ہوں  اور یہ بتانا چاہتا ہوں  کہ میں  نے اب کے بار ووٹ کیوں  دیا؟۔<br />
اس مرتبہ میں  نے عوامی نیشنل پارٹی کو ووٹ دیا اور شاید یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ اس پارٹی کا سربراہ بھی ہمارے حلقے میں  امیدوار تھا۔ میں  نے اور شاید میری طرح ہر پختون نے اس پارٹی کو اس لئے ووٹ دیا کہ اس پارٹی کا نعرہ امن (مونگہ امن غواڑو) تھا۔ اس پارٹی نے انتخابات سے چند روز قبل ایک پمفلٹ گھر گھر تقسیم کیا جو درحقیقت ان کی پارٹی کا منشور تھا۔ اس پمفلٹ کی چیدہ چید ہ باتیں  آپ کی اور قارئین کی نذر کررہاہوں ۔ اے این پی کے اس پمفلٹ میں  لکھا تھا کہ!<br />
محترم ووٹر السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ<br />
یہ خط پڑھنا آپ سب کے لئے ضروری ہے اس لئے کہ عنقریب آپ ایک ایسا فیصلہ کرنے والے ہیں  جس کے نتائج ہماری قومی زندگی پر آنے والے دنوں  میں  مرتب ہوں  گے ۔ اس لئے سوچ کر اور حقائق کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں  اور ایسی غلطی نہ کریں  کہ اگلے پانچ برس ہمیں  مزید پچاس سال پیچھے لے جائیں  ۔<br />
محترم ووٹر : دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا سارا نزلہ پختون قوم پر پڑا ہے۔ہمارے بچے خاک وخون میں نہارہے ہیں  ۔ خودکش حملوں نے سکھ چین چھین لیا ہے ۔ ہر آدمی خوف میں  مبتلا ہے۔ ان حالات میں  اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جو اس فلسفہ امن کی مکمل نفاذ ہی ضمانت دے سکتی ہے ۔اے این پی پختون بچوں  کے ہاتھوں  میں  کلاشنکوف کی جگہ قلم دینے اور خودکش بمبار جیکٹوں  کی بجائے سکول کا یونیفارم پہنانے کا عزم رکھتی ہے کیونکہ اس پختون سرزمین کی خوشحالی ہمارا پہلا اور آخری ایجنڈا ہے ۔ اے این پی کے ایجنڈے کا محور و مرکز آپ کے سوا کوئی دوسرا نہیں  ۔ اے این پی  صرف ایسے امور کی سیاست کرتی ہے جو آپ سے متعلق ہو۔ آپ کے اعتماد کی صورت میں  تبدیلی آپ خود محسوس کریں  گے اور ہمارا وعدہ ایک پختون کا وعدہ ہے۔ قول، عمل اور کردار کا جائزہ ضرور لیں  ۔ خدا کو حاضر وہ ناظر جان کر میرٹ پر فیصلہ کریں  اور یہ حدیث یاد رکھیں  کہ&#8221; مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں  ڈسا جاتا&#8221;۔<br />
 آپ کا خیراندیش اسفندیار ولی خان ۔ صدر عوامی نیشنل پارٹی<br />
سلیم صافی صاحب : اے این پی کے اس نعرے اور منشور کو دیکھ کر میں  نے اسے ووٹ دیا۔ آج ہمیں  امن کی ضرورت ہے ۔ پختہ نالی، گیس ، بجلی اور پانی وغیرہ بھی انسانی زندگی کے لئے ضروری ہیں  لیکن آج ہماری پہلی ضرورت امن ہے ۔ ہم نہ صرف پختون علاقے بلکہ پورے پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں  ۔ صوبہ سرحد کے عوام نے خصوصاً امن کے قیام اور بدامنی کے خاتمہ کے لئے اے این پی کو بھاری مینڈیٹ دے کر عزت بخشی۔ پختونوں  نے 18 فروری کو جس خاموش انقلاب کے ذریعہ اپنی بربادی کا بدلہ لے لیا ، اس کی مثال ملنی مشکل ہے ۔ میں  سمجھتا ہوں  کہ تمام سیاسی پارٹیوں  میں  اس وقت سب سے زیادہ اے این پی کے کاندھوں  پر بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے ۔ سب سے بڑا چیلنج صوبے کے اندر امن و امان کا قیام ہے ۔ خدا کرے کہ اے این پی کم از کم اپنا یہ وعدہ کہ ہم امن چاہتے ہیں  (مونگہ امن غواڑو) پورا کرے ۔ خدا کرے کہ مجھ جیسے لاکھوں  ووٹروں  کو یہ احساس نہ ہو کہ اے این پی کو ووٹ دے کر ہم ایک بار پھر غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں  ۔<br />
والسلام ۔ الیاس خان ، چارسدہ&#8221;<br />
قارئین کرام : آپ نے الیاس خان جو کہ اسفندیار ولی خان کے انتخابی حلقے کا باسی اور ان کا ووٹر ہے ، کا خط ملاحظہ کیا ۔ اے این پی کی قیادت نے مذکورہ وعدے صرف چارسدہ کے پختونوں  سے نہیں  بلکہ ہر خطے کے پختونوں  سے کئے ہیں  اور صرف چارسدہ کے الیاس خان نے نہیں  بلکہ ہر پختون اور پاکستانی نے ان سے یہ توقع وابستہ کررکھی ہے کہ وہ اس خطے اور پاکستان میں  امن کے قیام کے لئے کام کرے گی ۔ اس سے قبل ایم ایم اے کے قائدین نے امن و خوشحالی کا لولی پاپ دے کر پختونوں  سے ووٹ بٹورے تھے لیکن جب وہ حکمران بنیں  تو ہم جیسے طالب علم اگر انہیں  ان کے وعدے یاد دلاتے تو اکرم خان درانی صاحب اور سراج الحق صاحب ناراض ہوجاتے تھے ۔ اب اے این پی والوں  کی باری ہے ۔ انتخابات میں  کامیابی کے بعد وہ بھی اصل مسائل کو بھول کر عہدوں  کی بندربانٹ میں  مصروف نظر آتے ہیں  ۔ ان کے بعض لیڈر جو کل تک اخبارات کے دفاتر میں  بیٹھ کر اپنی سنگل کالم خبر چھپوانے کے لئے صحافیوں  کی چاپلوسیاں  کیا کرتے تھے ، حکومت اور وزارت کا سن کر ابھی سے دھمکیوں  پر اتر آئے ہیں  ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کب وہ ایم ایم اے کے بعض رہنماؤں  کی طرح اس مقام پر آتے ہیں  کہ جب وعدے اور منشور یاد دلانے سے وہ ناراض ہونے لگیں  ۔ تاہم وہ  خوش ہوں  یا ناراض ، نہ صرف ہم انہیں  تسلسل کے ساتھ عوام کے ساتھ ان کا کیا گیا وعدے یاد دلاتے رہیں  گے بلکہ الیاس خان جیسے ووٹر بھی ان پر نظریں  جمائے رکھیں  گے ۔ انہوں  نے اگر نان ایشوز کی سیاست کے ذریعے وقت گزار کر صرف حکمرانی کے مزے لینے پر اکتفا کیا تو اگلے انتخابات میں  ان کا وہ حشر ہوگا جو حالیہ انتخابات میں  مسلم لیگ (ق) کا ہوگیا ہے ۔ اے این پی کی قیادت کو یاد رکھنا چاہئیے کہ خطے میں  امن کی بحالی میں  ناکامی کی صورت میں  نہ صرف یہ کہ اگلے انتخابات میں  انہیں  عوام کے غیض وغضب کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ یہ خطہ ایسی دوزخ کا روپ دھار لے گا کہ جس میں  وہ نہ سیاست کرسکیں  گے اور نہ حکومت کے مزے لوٹ سکیں  گے ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/aik-waday-ki-yaad-dihani/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>اعلانِ مری کے سیاسی اور آئینی اثرات</title>
		<link>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/ailan-e-muree-kay-siasi-our-aini-asraat/</link>
		<comments>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/ailan-e-muree-kay-siasi-our-aini-asraat/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 18 Mar 2008 20:18:26 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[حکومت]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/ailan-e-muree-kay-siasi-our-aini-asraat/</guid>
		<description><![CDATA[انہوں  نے ان جج صاحبان کے بارے میں  رائے دیتے ہوئے کہا کہ جنہوں  نے عبوری آئین پر حلف اٹھایا ہے کہ وہ &#8220;مس کنڈکٹ&#8221; کے ذیل میں  آتے ہیں  اور ان کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں  بھیجا جانا چاہیے، اس طرح ایک صحت مند روایت قائم [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>انہوں  نے ان جج صاحبان کے بارے میں  رائے دیتے ہوئے کہا کہ جنہوں  نے عبوری آئین پر حلف اٹھایا ہے کہ وہ &#8220;مس کنڈکٹ&#8221; کے ذیل میں  آتے ہیں  اور ان کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں  بھیجا جانا چاہیے، اس طرح ایک صحت مند روایت قائم ہو گی اور آئندہ عبوری آئین پر حلف اٹھانے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ ہم یقینا اپنی عدالتی تاریخ میں  ایک بہت بڑا تجربہ کرنے چلے ہیں  جس کی کامیابی میں  وکلاء برادری، سول سوسائٹی اور رائے دہندگان اور سیاسی زعماء ایک عظیم اور ناقابل فراموش کردار ادا کر رہے ہیں ۔ میں  پائنا کا بہت شکرگزار ہوں  کہ وہ بنیادی قومی امور میں  رائے عامہ ہموار کر رہا ہے۔<br />
میں  نے جناب احمد اویس سے دریافت کیا کہ اگر نئی حکومتوں  کی تشکیل کے فوراً بعد بڑی تعداد میں  جج صاحبان کے خلاف ریفرنس   جوڈیشل کونسل میں  بھیج دیے جاتے ہیں ، تو ایک بحرانی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں  نے جواب میں  کہا کہ اصلاح احوال کے لیے ہمیں  کچھ ضروری قدم تو اٹھانا ہوں  گے جن میں  کامل احتیاط سے کام لینا ہو گا۔<br />
فاضل جسٹس جناب کے ایم صمدانی جو ایک شاندار ماضی کے حامل ہیں ، انہوں  نے اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم وقت پر صحیح قدم اٹھانے کی صلاحیت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں ۔ یہ مرحلہ جو 3/ نومبر کو پیش آیا، اس سے کہیں  زیادہ تباہ کن مرحلہ تو 12/ اکتوبر 1999ء کی شام پیش آیا تھا۔ دراصل لوگ قربانیاں  دینے کے لیے تیار نہیں ، اسی لیے فوجی آمر ہماری گردنوں  پر سوار رہتے ہیں  ان کی رائے میں  وہ جج صاحبان جنہوں  نے عبوری آئین پر حلف اٹھایا ہے، قانون کی نگاہ میں  جج نہیں  رہے۔ پارلیمان سے قرارداد منظور ہوتے ہی انہیں  اپنے گھروں  کو چلے جانا چاہیے۔ پارلیمان کو اپنی قرارداد میں  ان جج صاحبان کا فرداً فرداً نام لینا چاہئے جو آئین کی رو سے اعلیٰ عدالتوں  کے جج ہیں ۔ اس کے بعد ہر نوع کا ابہام ختم ہو جائے گا۔ آئین اور قانون میں  کوئی ابہام نہیں ، دراصل ہمارے اندر کی کمزوریاں  بہت سے حیلے بہانے تراشتی رہتی ہیں ۔<br />
ریٹائرڈ کرنل جناب فرخ نے نکتہ اٹھایا کہ ہم حقیقی معنوں  میں  خودمختار اور آزاد قوم نہیں ، اس لیے ہمارے قانونی حکمران اور ہیں اور حقیقی حکمران کچھ اور ہم اپنے ملکی معاملات اپنی صوابدید کے مطابق نہیں  چلا سکتے اور ہماری اجتماعی زندگی میں  ان گنت پیچیدگیاں  پیدا ہو رہی ہیں ۔<br />
سابق چیف جسٹس میاں  اللہ نواز نے ہمارے دستوری اور عدالتی بحرانوں  کا اختصار سے جائزہ لیتے ہوئے یہ حقیقت بیان کی کہ پاکستان نے اپنی آزادی کا سفر 1935ء اور 1947ء کے ایکٹ سے کیا تھا۔ پہلی دستور ساز اسمبلی نے دو سال کی بحث و تمحیص کے بعد ایک دستور کا مسودہ تیار کیا جس کی دوبار خواندگی ہو چکی تھی۔ اجلاس چونکہ طویل ہوئے تھے، اس لیے تیسری خواندگی پندرہ روز کے لیے معطل کر دی گئی اور وزیراعظم نے اعلان کر دیا تھا کہ آئین 25/ دسمبر کو نافذ کر دیا جائے گا۔ دستور ساز اسمبلی نے دوسری خواندگی کے وقت گورنر جنرل کے اختیارات کم کر دیے تھے۔ اس وقت کے گورنر جنرل ملک غلام محمد بالکل مفلوج تھے۔ ان کی بات ان کی قانونی سیکرٹری کے سوا اور کسی کی سمجھ میں  نہیں  آتی تھی۔ انہوں  نے ایمرجنسی نافذ کر دی، دستور ساز اسمبلی توڑ ڈالی اور نئی کابینہ میں  کمانڈر ان چیف جنرل ایوب خان کو شامل کر لیا۔ سندھ چیف کورٹ نے گورنر جنرل کے حکم نامے کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ عدلیہ کا یہ ایک عظیم الشان کارنامہ تھا جس پر ہمیں  فخر کرنا چاہیے، مگر فیڈرل کورٹ نے اس کے برعکس، ایک شرمناک فیصلہ صادر کیا جس سے صرف جسٹس کارنیلیس نے اختلاف کیا تھا۔ اس کے بعد ہمارے ملک میں  دساتیر بنتے اور ٹوٹتے رہے اور ان تلخ تجربات کی روشنی میں  1973ء کے آئین سازوں  نے ایک شق یہ بھی رکھی ہے کہ دستور سے بغاوت یا اسے سبوتاژ کرنے والے کو موت کی سزا دی جائے گی۔ اس کڑی سزا کے ہوتے ہوئے بھی1973ء کا آئین دوبارہ سبوتاژ ہوا ہے اور بندوق کی طاقت کے سامنے لوگ خاموش رہے ہیں ۔ دہشت کی اسی فضا میں  جج صاحبان نے عبوری آئین کے تحت حلف اٹھائے اورمیں  بھی ان میں  شامل ہوں ۔<br />
دراصل ایک عظیم انقلاب نے 9/ مارچ 2007ء کے بطن سے جنم لیا ہے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے بھی ایک بار عبوری آئین کے تحت حلف اٹھایا تھا، مگر 9/ مارچ کی دوپہر انہوں  نے فوجی آمریت کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا۔ ان کا &#8220;حرف انکار&#8221; اقتدار کے آشیانے پر بجلی بن کر گرا اور عوام ظلم اور جبر کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔ وکلاء سر پر کفن باندھ کر نکلے اور الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے ان کی جلیل القدر تحریک مزاحمت کو قریے قریے اور گھر گھر پہنچا دیا۔ اس کے علاوہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے اہل و عیال پر جو مظالم ڈھائے گئے ہیں ، ان کی مثال دنیا کی کسی تاریخ میں  نہیں  ملتی۔ اس خوں  چکاں  داستان سے ہر دل بہت متاثر ہوا ہے۔ اور چیف جسٹس کی داستان عزیمت نے لوگوں  کا ضمیر جھنجھوڑ ڈالا ہے۔ انتخابات میں  رائے دہندگان جس انداز سے جوق در جوق آئے ہیں ، اس میں  یہی جذبہ کارفرما تھا کہ صدر پرویز مشرف سے ان کے خوفناک اقدمات  کا انتقام لینا ہے۔ قوم نے عہد کر لیا ہے کہ وہ بھیڑ بکریوں  کے ایک ریوڑ کے بجائے شیر کی طرح زندہ رہے گی اور کسی کو شبخون مارنے کی اجازت نہیں  دے گی۔ اب قانونی اور حقیقی حکمرانوں  کا فاصلہ مٹ جائے گا اور عوام کی حقیقی حاکمیت قائم ہو گی، اب جو شخص عوام کی قوت ارادی سے ٹکرائے گا، پاش پاش ہو جائے گا۔<br />
میں  نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب صدر پرویز مشرف سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں ، وہ فوج اور عوام کے طاقت سے یکسر محروم ہو چکے ہیں  اور ان کا عہد ختم ہو چکا ہے انہوں  نے سازشی عناصر سے چھٹکارا حاصل نہ کیا، تو بااختیار پارلیمان آئین کی شق 6/ کو بروئے کار لانے پر مجبور ہو جائے گی۔ &#8220;اعلانِ مری&#8221; میں  جس روح پرور قومی مفاہمت کا اظہار ہوا ہے ہمیں  اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے جمہوری قوتوں  کے ساتھ کامل یکجہتی کا مظاہرہ اور انہیں  تازہ افکار کی کمک فراہم کرتے رہنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/ailan-e-muree-kay-siasi-our-aini-asraat/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>جاوید ہاشمی&#8230;&#8230;&#8230;ایک بہادر آدمی</title>
		<link>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/javaid-hashmi-aik-bahadur-admi/</link>
		<comments>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/javaid-hashmi-aik-bahadur-admi/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 18 Mar 2008 20:14:48 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[حکومت]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/javaid-hashmi-aik-bahadur-admi/</guid>
		<description><![CDATA[جاوید ہاشمی صاحب نے 18 فروری کے انتخاب میں  چار نشستوں  سے انتخاب لڑا اور تین پر کامیابی حاصل کی یہ پاکستان کی تاریخ میں  ایک ریکارڈ ہے، نہ کبھی اتنی زیادہ سیٹوں  پر کسی نے انتخاب لڑا اور نہ ہی ایسی کامیابی کبھی کسی کو حاصل ہوئی۔ لیکن یہ کامیابی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جاوید ہاشمی صاحب نے 18 فروری کے انتخاب میں  چار نشستوں  سے انتخاب لڑا اور تین پر کامیابی حاصل کی یہ پاکستان کی تاریخ میں  ایک ریکارڈ ہے، نہ کبھی اتنی زیادہ سیٹوں  پر کسی نے انتخاب لڑا اور نہ ہی ایسی کامیابی کبھی کسی کو حاصل ہوئی۔ لیکن یہ کامیابی انہیں  صرف پارٹی سے وابستگی کے نتیجے میں  حاصل نہیں  ہوئی بلکہ یہ ان کی شخصیت کے باعث ہے اس کامیابی کی اصل وجہ تو وہ قربانی ہے جو جمہوریت کے لیے جاوید ہاشمی نے دی۔ ایسی صعوبت جس کے تصور سے روح بھی کانپ اٹھتی ہے وہ انتہائی بہادری سے برداشت کرتے رہے لیکن آمر کے سامنے نہ جھکے۔ صدر مشرف کا ذاتی دشمن بن جانے کے بعد جب انہیں  باغی قرار دے دیا گیا اور کوئی جرم ثابت کیے بغیر ایک جعلی مقدمے کے نتیجے میں  جیل کی کال کوٹھری میں  بند کردیا گیا اور 23 سال کی قید بھی سنا دی گئی وہ جتنا عرصہ جیل میں  رہے اور یہ سزا انہوں  نے جس بہادری اور ہمت سے کاٹی ہے یہ ان کی سرشت کا حصہ ہے پنجاب یونیورسٹی کی گلیوں  میں  سے ابھرنے والا وہ طالب علم لیڈر جو جنرل سیکرٹری اور پھر صدر بھی رہا اور اس کے بعد سیاست میں  اپنی شخصیت کی اسی آب و تاب کے ساتھ داخل ہو گیا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس آفتاب کی چمک میں  اضافہ ہی ہوا ہے ماسوائے اس ایک ننھے سے داغ کے کہ انہوں  نے جنرل ضیاء الحق کی وہ وزارت کیوں  قبول کی؟ لیکن جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی اور جاوید ہاشمی نے اس وزارت سے استعفیٰ دے دیا تو یہ داغ بھی انہوں  نے اپنے دامن سے دھو دیا اورایک بار پھر ایک سرگرم سیاسی کارکن بن گئے۔<br />
جاوید ہاشمی ایک ایسا نام، ایک ایسی شخصیت ہیں  جن سے وابستہ پیغام کو جمہوریت سے محبت کے علاوہ کوئی  نام ہی نہیں  دیا جا سکتا جو نہ صرف جمہوریت کی راہ میں  جدوجہد کی ایک مجسم مثال بن چکے ہیں  بلکہ جو محبت اور احترام ایک سیاسی کارکن کی نگاہ میں  جاوید ہاشمی کے لیے ہے وہ کسی بھی بڑے سے بڑے لیڈر کو پاکستان میں  حاصل نہیں  ہوا۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ جنرل پرویز مشرف جیسے  آمر جن کی آمد کے بعد جمہوریت کی بات کرنے والے بیشتر لوگ تو تتربتر ہوگئے اور جو بچے وہ آمریت کی چھتری تلے پناہ گزین ہو گئے ان سب لوگوں  میں  یہ ایک اکیلا آدمی اس آمر کے سامنے ڈٹ گیا۔ آمر نے سزا سنائی تو زنداں  کی کال کوٹھڑی ان کا مقدر بنا دی گئی ہفتوں  پر ہفتے گزرتے گئے مہینوں  پر مہینے یہاں  تک کہ وقت سالوں  کے کوزوں  میں  بند کیا جانے لگا لیکن جاوید ہاشمی نے ہار نہ مانی حتیٰ کہ جسٹس افتخار چوہدری نے اپنی عدالت میں  ایک بار ان کی اپیل سنی اور رد کر دی۔ یہ تو جب وہ دوبارہ چیف جسٹس کے عہدے پر متمکن ہوئے انہیں  دوست دشمن کی اس وقت تک پہچان بھی ہو چکی تھی کہ انہوں  نے جاوید ہاشمی صاحب کی ضمانت پر رہائی کے احکامات جاری کر دیئے آمریت کے اس دور میں  جتنی عظمت، بہادری اوربلند حوصلگی کے ساتھ جناب جاوید ہاشمی نے صدر مشرف کا مقابلہ کیا میں سمجھتی ہوں  کہ سیاست دانوں  کے اس ہجوم میں  ان کے علاوہ صرف قاضی حسین احمد ہی ایسے تھے جو جیل جاتے رہے اورلوٹتے رہے اور ان دو سیاست دانوں  کے علاوہ کوئی وہ ہمت اور حوصلہ مجتمع ہی نہ کر پایا۔<br />
اس داستان میں موڑ تو اس وقت آیا جب جاوید ہاشمی کی رہائی کے بعد انہیں  پوری دنیا کے سفیر بار بارملتے رہے اور وہ اپنا سیاسی قد بڑھانے کے بجائے یہ کہتے تھے کہ آئندہ لائحہ عمل پارٹی چیف کی مرضی اور مشورے سے ہی طے کیا جائے گا جب انتخابات کا اعلان ہوا تو پارٹی چیف کے کہنے پر جس طور لٹو کی طرح انہوں  نے چار سیٹوں پر انتخاب لڑا وہ جس طور انتخابی کمپئن چلائی میرے بہنوئی ڈاکٹر قیصراحمد ان کی راولپنڈی کمپئن میں  ان کے ساتھ تھے وہ اکثر کہتے ہیں  کہ جاوید ہاشمی صاحب کو دیکھ کر تو یوں  محسوس ہوتا ہے جیسے ان میں  کوئی جن رہتا ہے وہ گلی گلی گھومتے تھے اور جب ان کے ساتھ چلنے والے جوان لوگ بھی تھک کر بیٹھنے کی جگہ تلاش کررہے ہوتے تھے ان کے چہرے پر وہی بشاشت ہوتی تھی وہ چلتے چلے جاتے تھے عوام میں  ان کی پذیرائی اس قدر تھی کہ لوگ ان کے اردگرد اس طرح جمگھٹا بنا لیتے کہ چلنے کی جگہ باقی نہ رہتی وہ انکے ہاتھ چومتے، ان کی قمیض کا دامن آنکھوں  سے لگاتے ایسی عقیدت کے جیسے کوئی سیاسی لیڈر نہ ہو کوئی روحانی شخصیت ہو اور پھر جب 18 فروری کو انتخابات ہوئے تو جاوید ہاشمی تین نشستوں  پر کامیاب ہوئے۔<br />
یہ سب تو 18 فروری تک کی باتیں  ہیں  جب انتخابات ہو گئے جاوید ہاشمی سے جو چاہیے تھا حاصل کر لیا گیا پاکستان میں  جمہوریت آمریت کے مدمقابل آ کھڑی ہوئی تو اچانک جاوید ہاشمی کے لیے اپنی ہی پارٹی کے اندر محبت کے جذبات سرد پڑ گئے پھر نہ ان کی قربانی کسی کو یاد رہی اور نہ ہی یہ حقیقت کہ جاوید ہاشمی چاہے تو ان کا سیاسی قد اتنا بڑھ سکتا تھا کہ پھر ان کے مدمقابل کھڑا ہوا ہر شخص بونا لگتا بعد کے یہ حالات افسوسناک بھی ہیں  اور ایک سیاسی کارکن کے لیے عبرت ناک بھی۔ ایک ایسا شخص جو عشروں  سے آمریت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا رہا اور اپنی پارٹی کا سینئر نائب صدر رہا جس نے اپنی ذات سے اوپر اپنی سیاسی وابستگی کو سمجھا جب پیپلز پارٹی سے مذاکرات کے لیے ٹیم کا اعلان کیا گیا تو اس میں  پارٹی چیف کے سمدھی کا نام تھا پارٹی چیف کے ہی برادری کے ایک آدمی تھے اور ایک ایسے چوہدری صاحب تھے جن کے فوج میں  تعلقات تھے اس ٹیم میں  نہ جاوید ہاشمی موجود تھے نہ احسن اقبال، نہ کھوسہ صاحب کا نام تھا نہ ظفر الحق کا اور نہ خواجہ سعد رفیق ان میں  سے کسی شخص کا کوئی ذکر نہیں  تھا جو نواز شریف کی غیر موجودگی میں  پارٹی کا علم تھامے چلتے رہے تھے جب وہ جدہ کے محل میں  اور لندن کے اپارٹمنٹ میں  آرام کر رہے ہوتے تھے یہ لوگ یہاں  ماریں  کھارہے تھے جیل جارہے تھے بقول شاعر    %04%F2<br />
منزل انہیں  ملی جو شریک سفر نہ تھے<br />
اگر یہی سیاست کا نقطہ ارتکاز ہے تو آنے والے سالوں  میں  سیاست کی کیفیت کیا ہو گی امین فہیم کے بارے میں  میں  نے کل ہی لکھا تھا اور آج جب جاوید ہاشمی صاحب کے بارے میں  لکھ رہی ہوں  تو احساس ہورہا ہے کہ سیاست کے یہ فریب خوردہ ہیرو جنہیں  خود ان کی پارٹیاں  ہی بھول گئیں  یہ اپنی پارٹیوں  کو اس سب کے باوجود نہ بھولیں  گے شاید ایسے ہی لوگوں  کے لیے شاعر نے کہا تھا کہ<br />
تم اگر بھول بھی جاؤ تو یہ حق ہے تم کو<br />
میری بات اور ہے میں  نے تو محبت کی ہے<br />
آج جاوید ہاشمی صاحب نے وزارت لینے سے انکار کر دیا ہے انہیں  ان عہدوں  کی ضرورت بھی کیا ہے وزارت سے کہیں  زیادہ بڑھ کر ایک چیز انہیں  راولپنڈی میں  مل چکی ہے باقی جو ہے وہ سیاست ہے اور افسوس یہ ہے کہ ان جیسے بہادر لوگ سیاست کا یہ روپ اپنا نہیں  سکتے کیونکہ یہ کمزوروں  کا اور چالبازوں  کا روپ ہوا کرتا ہے جاوید ہاشمی ایک بہادر آدمی ہیں  وہ یہ زخم بھی جھیل جائیں  گے یہ الگ بات ہے کہ جو زخم اپنوں  سے لگیں  وہ ان سے کہیں  زیادہ کاری ہوا کرتے ہیں  جو غیروں  سے لگتے ہیں  اور جہاں  تک وزارت کی بات ہے تو وہ ان کے قد سے بہت چھوٹی رہ گئی ہے نواز شریف خوش قسمت ہیں  کہ جاوید ہاشمی ابھی تک اپنے پورے قد سے کھڑے ہونے کا سوچتے نہیں  ورنہ وہ کیسے قدرآور ہو جاتے یہ تو ایک عام آدمی بھی جانتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/javaid-hashmi-aik-bahadur-admi/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>نئے عذاب</title>
		<link>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/pakistan/nay-azaab/</link>
		<comments>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/pakistan/nay-azaab/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 18 Mar 2008 20:10:22 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/pakistan/nay-azaab/</guid>
		<description><![CDATA[لاہور میں  بہار کا استقبال جن اندوہناک واقعات سے ہوا اس سے ماحول پر وحشت طاری ہے۔بگڑتے ہوئے حالات پر ہر شخص انتہائی فکر مند ہے جبکہ آزمائش کا اس سے بھی کڑا وقت ابھی آنا ہے ۔ہو سکتا ہم نے گرمی کا اتنا براموسم اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا ہو۔بجلی کی دن [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>لاہور میں  بہار کا استقبال جن اندوہناک واقعات سے ہوا اس سے ماحول پر وحشت طاری ہے۔بگڑتے ہوئے حالات پر ہر شخص انتہائی فکر مند ہے جبکہ آزمائش کا اس سے بھی کڑا وقت ابھی آنا ہے ۔ہو سکتا ہم نے گرمی کا اتنا براموسم اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا ہو۔بجلی کی دن رات فرقت اور وقفے وقفے سے اس کی جدائی کا عذاب  جھیلنا ابھی باقی ہے ۔<br />
صدر کا احسان ہے کہ انہوں  نے نئی حکومت کو یاد دلایا ہے کہ قیمتوں  پر کنٹرول رکھے ورنہ اسے عوام کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا ۔اس سے بھی زیادہ خوشی کی خبریں  نیو یارک سے موصو ل ہو رہی ہیں  جہاں  ہمارے عالمی سیاح اور سابق وزیراعظم نے امریکی حکومت میں  اپنے دوستوں  کو بن مانگے مفت مشورے دینے کی پیشکش کی ، لیکن بدقسمتی سے اسے قبول نہیں  کیا گیا ۔تاہم جب کوئی اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں  اس وقت شوکت عزیز ہیں  تو جسم کے اس حصے کو جسے بھیجاکہتے ہیں  خالی رکھنا مشکل ہوتا ہے۔لوگ منہ سے نکلنے والے ایک ایک لفظ کو سنتے ہیں  اور غور کرتے ہیں  ۔قوم ان کے اس اعلان پر خوشی کے شادیانے بجا رہی ہے کہ وہ واپس آکر اپنے پیارے وطن ثانی میں  غریب غرباء کے درمیان رہیں  گے اور چودھری پرویز الہیٰ کی منت کریں  گے کہ جی ہلکا نہ کریں ۔ گہرا سانس بھر کر صرف دس تک گنیں  ۔سب ٹھیک ہو جائے گا ۔میں  مانتا ہوں  کہ ان کیلئے یہ کام آسان نہیں ۔ مزید براں  نواز شریف اور زرداری نے ایک دوسرے کی سنگت میں  جو راگ چھیڑا ،اس سے پیدا ہونے والی مایوسی پر ضبط رکھنا مشکل ہے ۔تاہم ان کے مطابق عوام نے راگ کا انترا سنے بغیر ہی اسے مسترد کر دیا ۔<br />
جدہ سے بھی ایک جادو گرمنگوایا گیا ہے ،سنا ہے شریف الدین پیر زادہ نے آتے ہی ایسی پھونک ماری کہ لوگوں  پر کپکپی طاری ہو گئی ۔وہ ہمارے لئے ایسے ہی ہیں  جیسے &#8220;میکبتھ &#8220;کیلئے &#8220;بانکو&#8221;کا بھوت۔ سنا ہے وہ ضرور کوئی نہ کوئی چکر چلائیں  گے جسے جلد عوام اپنے آنکھوں  سے دیکھ لیں  گے۔<br />
کراچی ۔۔اگر آپ کے حافظہ سے اترا نہیں  ۔۔تو یہ شہر ہماری بندر گاہ اور صنعتی مرکز ہے ۔ابھی اس کا کچھ حصہ باقی ہے جو برائے نام قیمت  پر بکنے سے رہ گیا ۔۔قومی خزانے کو یہاں  سے اتنے کم محصولات ملتے ہیں  کہ بتاتے ہوئے شرم آتی ہے ۔۔جونہی گرمی نے زور پکڑا ،بجلی کا بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا اور اس عظیم شہر سے اس کی آخری سانس بھی چھین لے گا ۔تاہم ان فضول باتوں  سے کوئی پریشان کیوں  ہو ؟ جن لوگوں  نے شہر کو اس حال تک پہنچایا ،اگر وہ بیرون ملک ہیں  تو سوئزر لینڈ کے ڈیوس میں  تقریریں  فر ما رہے ہیں  یا ہوائی جہازوں  میں  نیو یارک کی یاترا کر رہے ہیں  یا ہائیڈ پارک میں  چہل قدمی فر ما رہے ہیں  ۔جو یہاں  ہیں  دن رات سازشوں  میں  مصروف ہیں  ،جنرل راشد قریشی کی کارکردگی قابل ستائش ہے جو لا یعنی فرائض بھی بڑی عمدگی سے ادا کر رہے ہیں  ۔موصوف اتنے معصوم اور سادہ ہیں  کہ صدر کے ہمراہ دورے کرتے ہیں  لیکن انہیں  یہ علم نہیں  ہو کہ کمانڈو نے ہوٹل کے جس کمرے میں  پڑاؤ ڈالا اس کا رات بھر کا کرایہ 63لاکھ روپے تھا ۔یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ بل ادا کرنا یا اس کے بارے میں  جاننا ان کا مسئلہ نہیں  ۔ذمہ داریوں  کی صاف ستھری تقسیم اسی بات کو کہتے ہیں  ۔صدر کے ہمراہ جانے والے وفد کے دیگر لوگوں  کو بھی شاید اس بات کا علم نہ ہو، کیونکہ بل پر ان کے دستخط ہونا ضروری نہیں  تھے۔ میں  نے یہی سنا ہے کہ اس ہوٹل میں  جتنے کا ابلا ہوا ایک انڈا آتا ہے اتنے میں  پاکستان میں  سوزوکے مہران خریدی جا سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے یہ بھی ایک افواہ ہو !<br />
انقطاع ۔۔ ایک ایسا لفظ بننے والا ہے جس سے زیادہ خوفناک لفظ پاکستانیوں  نے کبھی سنا نہ ہو گا لیکن یہ بات سابق حکومت کے کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھے لوگوں  کی سمجھ میں  نہیں  آتی جن کے خواص بیان کرنے کیلئے میرے پاس اس سے زیادہ نرم الفاظ نہیں ۔سب جانتے ہیں  کہ پاکستان کے ایک سے زیادہ وجود ہیں  اور جس پاکستان میں  ہم رہتے ہیں  ،ہمارے عزت مآب ،آنجناب وہاں  رہنے کا تصور بھی نہیں  کر سکتے۔ کبھی قدم رنجا نہیں  فرماتے ۔جو لوگ کبھی اچھے اور معقول ہوتے ہیں  ان جنابوں  سے مراعات اور سہولتیں  ملنے کے بعد اپنی خصلت  بدل لیتے ہیں  ۔انہیں  جھوٹ بولنے کا سلیقہ بھی آ جاتا ہے اور خود کو کالے گورے پیلے کہلانے میں  بھی کوئی عار نہیں  سمجھتے ۔،اچھے برے اور حق و باطل کی ہر تمیز ختم کر دیتے ہیں  ۔ جھوٹ بولنا آسان ہے لیکن میں  روزانہ ایسے لوگوں  کو دیکھتا ہوں  ،جو جھوٹ کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں  ۔یہ جھوٹ مجھے بے حد پسند ہے، جب سرکاری ترجمان سنجیدہ منہ بنا کر یہ کہتا ہے کہ معزول چیف جسٹس آزاد ہیں  اور اپنی مرضی سے جہاں  چاہیں  گھوم پھر سکتے ہیں  ۔ترجمان ہمیں  یہ بھی بتاتا ہے کہ جج صاحب سے کسی کے ملنے پر کوئی پابندی نہیں  بشرطیکہ وہ خود ان سے ملنے کیلئے تیار ہوں  ۔اسی اثنا میں  یہ بری خبر بھی ملی ہے کہ چیف جسٹس ہاؤس میں  ۔۔اوہ معاف فرمائیے گا معزول چیف جسٹس ہاؤس کو امتحان گاہ قرار دیا گیا ہے تا کہ ان کی معزول بیٹی ایک غیر معزول امتحان میں  شریک ہو سکے ۔تاہم اس پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں  کیونکہ یہ ایک معمول کی بات ہے ۔ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں  میں !ان کی رہائش گاہ کی بیرونی دیوار پر خاردارتارحکومت کی طرف سے لگائے گے پھول دار بیل بوٹوں  کیلئے لگائے گئے ہیں  ۔اور جو ان کے گھر کے آس پاس سفید دھواں  سا نظر آتا ہے وہ ماحول کو خوبصورت بنانے کیلئے مشینوں  کا دھواں  ہے ،اگر آپ کی آنکھوں  سے پانی جاری ہوتا ہے تو یہ آنسو گیس کا نتیجہ ہر گز نہیں ۔ہو سکتا ہے ، ایوان صدر میں  پھولوں  کی کیاریوں  کو دی جانے والی کھاد سے اٹھنے والے بخارات کا نتیجہ ہو ۔<br />
رواں  ہفتہ گزرنے سے پہلے توقع ہے کہ نگرانوں  کے ذہن میں  یہ خیال آجائے گا کہ انہیں  اپنے آپ کو تا حیات مراعات سے نوازنا چاہیے ۔ابھی جب کہ سب اختیار ان کے پاس ہیں  کسی کو جسارت کر کے انہیں  یہ یاد دلانا چاہیے کہ وہ حکومت سے اپنے لئے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ خریدنے ،دیکھ بھال کرنے اور بدلنے کے اخراجات کی منظوری لینا نہ بھولیں  ،جس کیلئے انہوں  نے اتنی قربانیاں  دیں  ۔ہم جیسے لوگ کڑی دوپہر میں  جب سورج سوا نیزے پر ہو، کام کاج کیلئے باہر نکل سکتے ہیں  لیکن ان کیلئے یہ ممکن نہیں  ۔انہیں  یہ بات بھی یقینی بنانا چاہیے کہ اپنے بال بچوں  کیلئے اتنے مراعات حاصل کر لیں  جو ان کی آئندہ درجن بھر نسلوں  کیلئے کافی ہوں  ۔ان سے یہ توقع نہیں  رکھنی چاہیے کہ وہ کام کریں  گے کیونکہ وہ کام کرنے کے لئے پید انہیں  ہوئے اور انہیں  کوئی کام کرنے کی ضرورت بھی کیا ہے ؟ جبکہ وہ ایک کی بجائے اپنے آگے پیچھے دو دو سونے کے چمچے لیکر پیدا ہوئے ہیں  ۔عقل مندی کا تقا ضا یہی ہے کہ انسان اپنے لئے کچھ پس انداز کر کے رکھے اور 15سیکنڈ کی جو شہرت انہیں  ملی اس کا بھرپور فائدہ اٹھائے ۔<br />
پچھلےء ہفتے وسیم سجاد کی خاتون خانہ کا انٹرویو نظر سے گزرا ،جس میں  انہوں  نے اپنے شوہر کی کار گزاریوں  پر کھلے بندوں  دکھ کا اظہار کیا ۔کافی کی چسکیاں  لیتے ہوئے انہوں  نے جن باتوں  کا اعتراف کیا اس سے لوگوں  کے تھکے ہوئے اعصاب کو یقیناً سکون ملا ہو گا ۔ تا ہم وہ عناصر اس سے مطمئن نہیں  ، جو یہ سمجھنے سے قاصر ہیں  کہ جس خاتون کو یہ ساری سہولتیں  ملی ہوں  ، ان پر احتجاج کیوں  کرے گی؟ کوئی اس سے اختلاف کر سکتا ہے کہ آپ ریشمی ڈوری سے بندھے بھی رہیں  اور چند خوبصورت لفظوں  کا سہارا لیکر اپنی مایوسی بھی ظاہر کریں  ۔وسیم سجاد ہمارے لئے نئے نہیں ۔ وہ بھی ان لوگوں  میں  شامل ہیں  جنہوں  نے اپنے لئے لمبی چوڑی مراعات لیں  ۔ان کا شمار بھی ایسے لوگوں  میں  ہوتا ہے جنہیں  اپنے کیے پر ندامت نہیں  ۔ان کا جس قسم کا پس منظر اور تعلیمی ریکارڈ ہے، اس کے پیش نظر کوئی پاگل ہی یہ توقع کر سکتا ہے کہ اس قسم کی ناجائز مراعات سے انکار کریں  گے ۔یہ کہاں  لکھا ہے کہ تعلیم ا یسے شخص کا کچھ بگاڑ سکتی ہے جس کا علم و دانش سے دور دور کا واسطہ نہ ہو۔ ایسے ہی جذبات سلمان شاہ کیلئے ہیں  جنہوں  نے بڑی احتیاط سے اپنے کھاتے متوازن اور درست رکھنے کیلئے کسی اخلاقی گراوٹ کو رکاوٹ نہ سمجھا اور جن کی جھوٹ کی فیکٹری آٹھ آٹھ گھنٹوں  کی تین شفٹوں  میں  دن رات چلتی ہے۔<br />
ان کے باس کا کہنا تھا کہ ایک سال میں  ہم سب اس قابل ہو جائیں  گے کہ آب حیات پی سکیں  ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ملکی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور ہم دنیا کیلئے چائے کا سب سے پسندیدہ کپ بن چکے ہیں ۔<br />
 صدر مشرف نے 2004ء میں  پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے 16ارب روپے کے جس منصوبے کا اعلان کیا تھا وہ اب بھی فائلوں  میں اپنی جگہ پر قائم ہے اور ایک انچ بھی آگے پیچھے نہیں  ہلا۔تا ہم ٹھیکوں  کی نیلامی میں  گھپلے اور اس قسم کے دوسرے گھٹیا الزامات نے جنم لیا ۔اس منصوبے کے انچارج ایک ریٹائرڈ بریگیڈئیر ہیں  لیکن چار سال بعد اس منصوبے کا وجود کہیں  نظر نہیں  آتا ۔ جہاں  تک میرا تعلق ہے تو میں  جناب شوکت عزیز کے پر تکلف ناشتوں  کا مزا کرکرا نہیں  کرنا چاہتا لیکن انہیں  یہ ضرور یاد دلانا چاہتا ہو ں  کہ دسمبر  2007ء تک ان کا ملک (پاکستان نہیں  امریکہ)43ارب روپے کا مقروض ہو چکا ہے ۔قرضوں  کے حجم میں  اس غیر معمولی اضافے کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے قومی وسائل اندھا دھند خرچ کیے اور بے دریغ قرضے لیے ۔گڈ گورننس شاید اسی چیز کا نام ہے ؟یقیناً ان کا دور سنہری تھا ۔صد حیف ! بے درد لوگوں  نے قدر نہ کی!</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/pakistan/nay-azaab/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>حکومت سازی: کون بناءے گا حکومت &#8220;شیر&#8221; یا &#8220;تیر&#8221; ؟</title>
		<link>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/hokomat-sazi-kon-bana-ay-ga-hakomat-sheer-ya-teer/</link>
		<comments>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/hokomat-sazi-kon-bana-ay-ga-hakomat-sheer-ya-teer/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 23 Feb 2008 16:17:45 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[حکومت]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/hokomat-sazi-kon-bana-ay-ga-hakomat-sheer-ya-teer/</guid>
		<description><![CDATA[
]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/hokomat-sazi-kon-bana-ay-ga-hakomat-sheer-ya-teer/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>امریکی کمپنی کا شرمناک عمل</title>
		<link>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/islam/american-company-ka-sharamnak-amaal/</link>
		<comments>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/islam/american-company-ka-sharamnak-amaal/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 29 Jan 2008 18:10:30 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/islam/american-company-ka-sharamnak-amaal/</guid>
		<description><![CDATA[
]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><img src="http://pakistans.com/urduimages/aldo-company-ka-sharamnaak-amaal.gif" alt="Aldo company ka sharamnak amaal" /></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/islam/american-company-ka-sharamnak-amaal/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>آپ کی راءے بینظیر کی حلاکت زمہ دار کون؟</title>
		<link>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/app-ki-ray-may-bainazir-ka-qatil-kon-hay/</link>
		<comments>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/app-ki-ray-may-bainazir-ka-qatil-kon-hay/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 22 Jan 2008 08:52:20 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[حکومت]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/app-ki-ray-may-bainazir-ka-qatil-kon-hay/</guid>
		<description><![CDATA[
]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.pakistans.com/urdu/urdu-articles/hakomat/app-ki-ray-may-bainazir-ka-qatil-kon-hay/feed/</wfw:commentRss>
		</item>
	</channel>
</rss>
